ابنا: انہوں نے کہا کہ ہندستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان کشمیر لائن آف کنٹرول پرجھڑپیں ہونے کے بعد ، نئی دہلی اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں کوئی جلدی بازی کا فیصلہ نہیں کریگا ۔ ہندوستانی وزیر دفاع نے ہند وستان و پاکستان کے درمیان نچلی سطح پر کشیدگی پائے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی دونوں ملکوں میں تعلقات کی بحالی کے لئے ضروری وقت نہیں آیا ہے – کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر حال ہی میں ہونے والی جھڑپوں کے سبب ، کہ جس میں دو ہندوستانی اور تین پاکستانی فوجیوں سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے ، ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیشرفت کا عمل رک گیا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں تازہ کشیدگی پیدا ہونے کے بعد نئی دھلی کے حکام کے مواقف ، ایک دوسرے سے بہت مختلف ہونے کے علاوہ ، سفارتی ملاحظات کے ساتھ بیان نہیں ہورہے تھے ۔ ہندوستانی وزیر اعظم من موہن سنگذ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں دو مختلف مواقف پیش کئے ۔ انہوں نے ہندوستان کے یوم افواج کے موقع پر کہا کہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں ہونے کے بعد نئی دھلی پاکستان کے ساتھ ماضی کی طرح اپنے تعلقات برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ اور پھر انہوں نے ایک ہفتے کے بعد حکمراں جماعت کانگریس کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ اگر پاکستان ، ہندوستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے تو اپنی پالیسیوں میں نظر ثانی کرے ۔
ہندوستانی حکام کے بدلتے ہوئے نظریات اور مختلف مواقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہونے والے واقعات سے نمٹنے میں نئی دہلی کی خارجہ پالیسی میں لازمی پختگی نہیں پائی جاتی ہے ۔ عجلت پسندانہ موقف اپنانے سے اجتناب ، ہندوستان سمیت تمام ملکوں کی خارجہ پالیسی کی اہم ضروریات میں سے ہے اور ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت پر مبنی اپنی اسٹریٹیجک پالیسی کو عملی جامہ پہنانے اور بین الاقوامی تنازعات میں موثر کردار ادا کرنے کے لئے اس پر توجہ دینی چاہئے ۔
خاص طور پر ایسے میں جبکہ نئی دھلی اور اسلام آباد گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے دو طرفہ روابط میں موجود کشیدگی کو کم کرنے میں کوشاں ہیں ۔ چنانچہ اسی سلسلے میں گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں دونوں کے ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین میں توسیع ، مشترکہ سرحدی راستوں کو کھولے جانے ، اور ویزا جاری کئے جانے کی سہولت جیسے معاہدوں پر دستخط انجام پائے تھے ۔
ماہرین کا کہا ہے کہ اگر ہندوستان اپنی موجودہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنے اختلافات کو کم کردے اور متنازعہ مسائل کے سلسلے میں اس ملک کے ساتھ مفاہمت کرلے تو اس صورت میں نئی دہلی ، پاکستان کے ساتھ ایٹمی رقابت اور اسلام آباد پر قابو پانے کی پالیسی کے ذریعے اپنی توانائیوں کا بیشتر حصہ معاشی مسائل پر مرکوز کرسکے گا اور معاشی میدان میں ابھرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو جائیگا ۔ اس بنا پر کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بارے میں ، جیسا کہ پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کی جانب سے مشترکہ تحقیقات انجام پائے اور فریقین ان تحقیقات کے انجام پانے سے پہلے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی سے پرہیز کریں ۔ گذشتہ ایک سال میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں استحکام سے ، دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی سے مقابلے اور کشمیر پر ملکیت کے دعوے جیسے مسائل کے بارے میں اختلافات کو حل کرنے کے لئے مناسب حالات پیدا ہوئے ہیں ۔.......
/169